صفی لکھنوی … غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سن کے مدد اتنی اے بال و پرواز دینا نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا

Read More

حسن اکبر کمال … ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا

ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…

Read More

علامہ رشید ترابی … ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر

ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت میزان میں ہر دوست ہو دشمن…

Read More

منظور حسین شور … صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی

صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی اور جو مینا بھری تھی بھری رہ گئی کیا غضب ہے نشیمن سلگتا رہا اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی آخرش کام آ ہی گئی خامشی لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی ہر نظر بن گئی اپنے سینے کا تیر اک خلش بن کے دیدہ دری رہ گئی نسلِ آدم سے اتنے اٹھے کردگار اپنے لب سی کے پیغمبری رہ گئی آدمی کا خدا بن گیا آدمی داورِ حشر کی داوری رہ گئی میرا ہر نقشِ پا بن گیا سنگِ میل خضر کی…

Read More

ضیا شادانی مرادآبادی … میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا

میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا یہاں پر مصر کا بازار کب تھا ملاقاتیں بھی رسماً ہو رہی تھیں دلوں میں جذبۂ ایثار کب تھا میں اس کو موت سے بھی چھین لاتا وہ جینے کے لئے تیار کب تھا اگر کچھ حوصلہ ہوتا تو چلتے وفا کا راستہ دشوار کب تھا ضیا میں سارے بندھن توڑ دیتا تمہارے واسطے انکار کب تھا

Read More

ضیا شادانی مرادآبادی … گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے

گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے نگاہ شوق بھی کیا انتخاب مانگے ہے جو تجھ سے مجھ سے خفا ہو گئے ہیں صدیوں سے نگاہ پھر انہیں لمحوں کا خواب مانگے ہے کسی کو کچھ بھی نہیں مل سکا زمانے میں جسے ملا ہے وہ کیوں بے حساب مانگے ہے اب اس سے بڑھ کے ترقی کا دور کیا ہوگا حرم میں بیٹھ کے زاہد شراب مانگے ہے اب ایسی ضد کا بھلا کیا علاج ہوگا ضیا وہ ماہتاب ہے اور آفتاب مانگے ہے

Read More

ضیا شادانی مرادآبادی … غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے

غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے اور سمٹے تو میری ذات ہوئے ہم سے ہی عرض مدعا نہ ہوا جب وہ مائل بہ التفات ہوئے مدتوں سے دعا سلام نہیں مدتیں ہو گئی ہیں بات ہوئے جو بھی گزری گزر گئی ہم پر رونما پھر نہ حادثات ہوئے ہم نے پائی وفا کی داد ضیا جب بھی ماضی کے واقعات ہوئے

Read More

حسن اکبر کمال … کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا

کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم  نے ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا درد یہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا…

Read More

ایوب رومانی … رہ گزاروں میں روشنی کے لیے

رہ گزاروں میں روشنی کے لیے لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے ذائقہ تلخ ہے محبت کا آدمی زہر غم پیے نہ پیے دل میں یادوں کے رت جگے جیسے ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا دل نے سو رنگ انتخاب کیے در بدر شہر میں پھرے یارو اپنے کاندھے پہ اپنی لاش لیے دل کی دل میں رہیں تمنائیں آنکھوں آنکھوں میں کتنے اشک پیے جان پیاری ہمیں بھی تھی…

Read More

سعود عثمانی۔۔۔ نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں

نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں اور اس کے بعد بچیں صرف خوبیاں مجھ میں میں ایک عمر یہاں جس مکاں میں رہتا رہا اب ایک عمر سے رہتاہے وہ مکاں مجھ میں سنا نہیں تھا کہ پت جھڑ بھی سبز ہوتی ہو مگر یہ پھول کھلا اور ناگہاں مجھ میں طلوع ہوتا ہے سورج غروب ہوتے ہوئے یہ رات جلنے لگی ہے یہاں وہاں مجھ میں سفر سے آتا ہوا ‘ بکریاں چراتا ہوا سعود کوئی گڈریا ہے نغمہ خواں مجھ میں

Read More