ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…
Read MoreCategory: آج کی غزل
سرور بارہ بنکوی … تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا
تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا تو پھر یہ عمر بھی کیوں تم سے گر نہیں ملنا چلو زمانے کی خاطر یہ جبر بھی سہہ لیں کہ اب ملے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا رہ وفا کے مسافر کو کون سمجھائے کہ اس سفر میں کوئی ہم سفر نہیں ملنا جدا تو جب بھی ہوئے دل کو یوں لگا جیسے کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا
Read Moreعدیم ہاشمی ۔۔۔ مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذا صدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے میں جی رہا ہوں…
Read Moreصفی لکھنوی … دیدہ اشکبار کیا کہنا
دیدہ اشکبار کیا کہنا واہ ابرِ بہار کیا کہنا حال جنت کا سن چکے واعظ اب اسے بار بار کیا کہنا اُڑ کے پہنچا کسی کے دامن تک آج میرا غبار کیا کہنا درد نے خوب دل کا ساتھ دیا واہ رے غم گسار کیا کہنا دل سے یادِ وطن صفی نہ گئی اے غریب الدیار کیا کہنا
Read Moreادیب سہارنپوری … بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے
بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے محسوس ہو رہے ہیں دل و جاں نئے نئے یوں قیدِ زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں جیسے ہوئے ہوں داخلِ زنداں نئے نئے کس کس سے اس امانتِ دیں کو بچایئے ملتے ہیں روز دشمنِ ایماں نئے نئے راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں غم پالتی ہے عمرِ گریزاں نئے نئے مسجد میں اور ذکر بتوں کا جناب شیخ شاید ہوئے ہیں آپ مسلماں نئے نئے دم بھر دمِ اجل کو نہ حاصل ہوا فراغ ہوتے رہے چراغ فروزاں نئے…
Read Moreمنظور حسین شور ۔۔۔ مرے دل کی دھڑک اس کے تبسم پر گراں کیوں ہو
مرے دل کی دھڑک اس کے تبسم پر گراں کیوں ہو میں افسانہ ہوں اس کا وہ مرا افسانہ خواں کیوں ہو مرے کام آ گئی آخر مری کاشانہ بر دوشی لپکتی بجلیوں کی زد پہ میرا آشیاں کیوں ہو کناروں سے گزر جانا ہی طوفانوں کی فطرت ہے جہاں دنیا ٹھہر جائے قدم میرا وہاں کیوں ہو ترا جلوہ بھی جب تیرا ہی پردہ ہوتا جاتا ہے تو پھر میری نگاہوں پر نگاہوں کا گماں کیوں ہو نہ میں وارفتۂ مطرب نہ میں جاندادۂ ساقی اگر محفل سے اٹھ…
Read Moreعلامہ رشید ترابی … ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا
ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا جسے یہ بات میسر ہوئی خجل نہ ہوا گزر چلا مَن و تُو سے فضائے ہُو کا حریف بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے ارادتاََ مرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا سکونِ فکر ، سکونِ نظر ، سکونِ حیات خمیرِ زیست ان اجزا پہ مشتمل نہ ہوا جو زخم دل پہ لگے ، مٹ گئے مگر غمِ دوست مری حیات ہے یہ زخم ، مُندمل نہ ہوا بہار میں بھی…
Read Moreادیب سہارنپوری … ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا
ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی, اُسے چاندنی نے جلادیا میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا, مجھے آپ اپنی خبر نہیں وہ شخص تھا مرا رہنما , اُسے راستوں میں گنوادیا جسے تو نے سمجھا رقیب تھا , وہی شخص تیرا نصیب تھا ترے ہاتھ کی وہ لکیر تھا, اسے ہاتھ سے ہی مٹادیا مری عمر کا ابھی گلستان ,تو کھلا ہوا ہے ضرور پر! وہ پھول تھے تری چاہ کے، انھیں موسموں نے گرا دیا
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک ادھر ایک اور سر نکلا چڑھایا عرش پر ہم کو کمالِ بت پرستی نے تجلی طور کی دیکھی جو پتھر سے شرر نکلا نہیں گریہ زلیخا وہ نہیں گر یوسفِ مصری تو پھر کیوں مہر کے پنجے سے دامانِ سحر نکلا بخیلوں سے امیدِ فیض کیا ہو آخری دم تک مٹے گل خاک ہو کر اور مٹھی سے نہ زر نکلا ہے شیخ اولادِ آدم کیا جگہ پائے گا جنت میں رسائی کیا وہاں…
Read Moreآہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ سنے تو زبانِ خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں نہ کیجے تکیہ بزرگوں کی ڈھلتی چھاؤں پر کہاں سروں پہ سدا سائبان رہتے ہیں یہی جہاں ہے ہمارا جہانِ گمشدگی یہی نشان کہ بس بے نشان رہتے ہیں محبتیں جس افق سے طلوع ہوتی ہیں وہیں پہ مل کے زمیں آسمان رہتے ہیں ترے سلوک نے دھندلا دئے سب افسانے ہم اپنے سے بھی بہت بد گمان رہتے ہیں ہر ایک…
Read More