علامہ رشید ترابی … ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر

ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت میزان میں ہر دوست ہو دشمن…

Read More

علامہ رشید ترابی … ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا

ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا جسے یہ بات میسر ہوئی خجل نہ ہوا گزر چلا مَن و تُو سے فضائے ہُو کا حریف بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے ارادتاََ مرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا سکونِ فکر ، سکونِ نظر ، سکونِ حیات خمیرِ زیست ان اجزا پہ مشتمل نہ ہوا جو زخم دل پہ لگے ، مٹ گئے مگر غمِ دوست مری حیات ہے یہ زخم ، مُندمل نہ ہوا بہار میں بھی…

Read More