ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا جسے یہ بات میسر ہوئی خجل نہ ہوا گزر چلا مَن و تُو سے فضائے ہُو کا حریف بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے ارادتاََ مرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا سکونِ فکر ، سکونِ نظر ، سکونِ حیات خمیرِ زیست ان اجزا پہ مشتمل نہ ہوا جو زخم دل پہ لگے ، مٹ گئے مگر غمِ دوست مری حیات ہے یہ زخم ، مُندمل نہ ہوا بہار میں بھی…
Read More