حسن اکبر کمال … کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا

کیا گماں تھا کہ نہ ہوگا کوئی ہمسر اپنا دن ڈھلے سایہ مقابل ہوا بڑھ کر اپنا گھر سے نالاں تھے مگر دیکھی ہے دنیا ہم  نے ہے اگر کوئی اماں گاہ تو بس گھر اپنا درد یہ کیسا شرر بن کے اٹھا پہلو میں ہم تو یوں خوش تھے کہ دل کر لیا پتھر اپنا رات بھر کوئی نہ سوئے تو سنے شور فغاں چاند کو درد سناتا ہے سمندر اپنا دکھ اٹھائے تو بہت رنگ خود اپنے دیکھے کم قیامت سے نہ تھا جو بھی تھا منظر اپنا…

Read More