احمد فراز

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

Read More

سجاد بلوچ

کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی

تھکے ہوئے در و دیوار ہیں نہ دو دستک کہ گر پڑے نہ کہیں گھرکا گھر بنایا ہوا

Read More

پروین شاکر

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

Read More

سلام ۔۔۔ شاہد ذکی

سلام نہ گھر ‘ نہ راہ گُذر ہے’ عجیب منظر ہے قیام ہے’ نہ سفر ہے ‘عجیب منظر ہے سُنا تھا زر کا تہہ ِ خاک سے نکل آنا مگر یہ خاک ہی زر ہے’ عجیب منظر ہے ہرے درختوں کے دامان و دست خالی ہیں بُریدگاں پہ ثمر ہے’ عجیب منظر ہے شکار منع ہے جس میں’ اُسی مہینے میں امام خون میں تر ہے ‘عجیب منظر ہے نثار کرب و بلامیں، تری اداسی پر ترا یہ عیب ہُنر ہے، عجیب منظر ہے مِٹا مِٹا کے شبیہوں کو جاوداں…

Read More

اختر عثمان

جب روح سے کہتے ہو کہ لبّیک حسینا ! پھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا ! کہتے ہو کہ ہو اُسوۂ شبّیر پہ قائم دربار میں کیوں جاتے ہو ، سَر کیوں نہیں جاتا !

Read More

یوسف خالد

کوفہ مزاج لوگ کہاں جان پائیں گے جلتا دیا بجھا کے ہوا کون سرخرو کس کی عطا ہے دہر میں اب تک وفا پرست رہتے ہیں سر بلند ہی باطل کے روبرو

Read More