فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا
اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا
Related posts
-
-
ناظم علی خان ہجر
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی تم دل میں ہو تو درد ہمارے... -
صفی لکھنوی
دل میں سکت نہ بوند لہو کی جگر ہے نالے کی سادگی کہ فریبِ اثر میں...
