جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سلام

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو

یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو
یہ جو چراغِ ظلم کی تھرا رہی ہے لو
در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو
حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو
یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو

پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین
پھر بزم آب و گل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین
پھر حریت ہے موردِ الزام اے حسین

ذوقِ فسادِ ولولۂ شر لیے ہو ئے
پھر عصرِ نو کے شمر ہیں خنجر لیے ہوئے

مجروح پھر ہے عدل و مساوات کا شعار
اس بیسویں صدی میں ہے پھر طرفہ انتشار

پھر نائبِ یزید ہیں دنیا کے شہر یار
پھر کربلا ئے نو سے ہے نوعِ بشر دوچار

اے زندگی جلالِ شہِ مشرقین دے
اس تازہ کربلا کو بھی عزمِ حسین دے

آئینِ کشمکش سے ہے دنیا کی زیب و زین
ہرگام ایک بدر ہو ہر سانس اک حنین
بڑھتے رہو یونہی پئے تسخیرِ مشرقین
سینوں میں بجلیاں ہوں زبانوں پہ یاحسین

تم حیدری ہو‘، سینۂ اژدر کو پھاڑ دو
اس خیبرِ جدید کا در بھی اکھاڑ دو

Related posts

Leave a Comment