سلام بحضور امامؑ عالی مقام
ٹکڑے ہو ہو کے سرِ دشت بکھرنے کے لئے
ہم تو آئے ہیں یہاں آپ پہ مرنے کے لئے
لیجئے ہم سُمِ اسپاں سے کچل جاتے ہیں
آپ زحمت نہ کریں دفن بھی کرنے کے لئے
کھینچ لائی ہے یہاں، غازہِ خونیں کی کشش
آگئے ہم بھی یہاں بننے سنورنے کے لئے
اس جلالیؑ کو اے مشکیزہِ بے آب سنبھال
نہر کو خشک نہ کردے تجھے بھرنے کے لئے
آسماں آیا تھا پھیلائے ہوئے دامنِ عرش
سر ہی راضی نہ تھا نیزے سے اترنے کے لئے
یہ کھلے بال، یہ بازار، یہ لوگوں کا ہجوم
اک خدا چاہئے اس رہ سے گزرنے کے لئے
زخم گہرا جو مری پشت پہ زنجیر سے ہے
زخم اک اور لگا لوں اسے بھرنے کے لئے
خنکیِٔ اشکِ عزا، حدتِ جوشِ ماتم
اور کیا چاہئے مٹی کو نکھرنے کے لئے
