دلاور علی آزر ۔۔۔ سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے

سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے
لہو کی جستجو میں کربَلا ہے

مِرے کانوں میں ہیں بچوں کی چیخیں
اور اُن کی ہاوہو میں کربَلا ہے

وہی ماتم بپا خیمہ بہ خیمہ
وہی پنہاں لہو میں کربَلا ہے

نہیں وہ پیاس ہونٹوں پر ہمارے
اگرچہ گفتگو میں کربَلا ہے

نمایاں ہیں اِن آنکھوں میں جو آنسو
مِری خاکِ نمو میں کربَلا ہے

نمی ہے ہَر طرف منظر بہ منظر
فضائے چار سو میں کربَلا ہے

ہمارا خون ہے سبزے میں آزَر
گلوں میں رنگ و بو میں کربَلا ہے

Related posts

Leave a Comment