سلام
ملول ایساہوا منظرِ قضا سے میں
کہ روتاپیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں
رموزِ جامِ شہادت کا مجھ کو علم نہیں
سو آب آب ہوں اے نینوا کے پیاسے میں
تو اہلِ بیت کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا ؟
سوال مجھ سے کرے گا خدا ، خدا سے میں
میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حسینؑ
سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں
