سلام
خدا کی راہ کے بامِ شہِ ہدیٰؐ کے چراغ
نظر نظر میں فروزاں ہیں کربلا کے چراغ
نشانِ قریۂ باطل مٹاتے جاتے ہیں
حسینؓ جادۂ حق میں جلا جلا کے چراغ
فضائے خانۂ اسلام جن سے روشن ہے
نبیؐ کے گھر کے دیے ہیں رہِ رضا کے چراغ
وہ آب جُو کہ جو پہنچی نہیں تھی پیاسوں تک
جلاتی پھرتی ہے پلکوں پہ اب عزا کے چراغ
یہ ماہ و مہر حقیقت میں ہیں اُنھی کا نُور
جلے ہوئے ہیں جو اب سامنے ہوا کے چراغ
ہوائے کوفۂ شب کو خبر نہ تھی کہ یہ ہیں
علیؓ کے نورِ نظر اور مصطفےٰؐ کے چراغ
وہ شام آج بھی روتی ہے خون کے آنسو
کہ جس نے دشت میں دیکھے تھے مرتضیٰؓ کے چراغ
حریمِ صبر و رضا کا دیا جلایا ہے
حسینؓ ابنِ علیؓ نے بجھا بجھا کے چراغ
حسینؓ! کس کو پکاریں گے ہم تمہارے بعد
حسینؓ! کون جلائے گا اب وفا کے چراغ
