سلام، بحضور امامِ عالی مقامؑ
سلسہ گردشِ اوقات کا تھم جاتا ہے
قیدی زنجیر ہلاتا ہے تو دم جاتا ہے
ہاتھ میں تیغ ہے کوئی نہ سپر سینے پر
یوں بھی دریا پہ کوئی لے کے علم جاتا ہے
پشتِ بیمار ہے یوں زحمتِ زنجیر سے خم
حلقۂ طوق گراں تا بہ قدم جاتا ہے
ضعف سے خوں کو ٹپکنے کا بھی یارا نہ رہا
زخم سے رستا نئیں آنکھ میں جم جاتا ہے
آسماں شرم سے ہے دامنِ خورشید میں گم
سر کھلے قافلۂ اہلِ حرم جاتا ہے
اب تلاوت ہو سرِ نیزہ بھی حُفّاظ کے بیچ
ورنہ قرآں کی تلاوت کا بھرم جاتا ہے
یہ زمانہ ہے حدودِ غمِ شبیرؑ سے کم
میں جہاں جاؤں مرے ساتھ یہ غم جاتا ہے
عیشِ دنیا، یہ ترے دام میں کیسے آجائے
دل عزا خانے سے باہر بھی تو کم جاتا ہے
میں چلا روضۂ شبیرؑ کی جانب تو لگا
مجھ سے آگے مری قسمت کا قدم جاتا ہے
فرشِ ماتم پہ پہنچتا ہوں ذرا دیر سے میں
مجھ سے پہلے یہ مرا دیدۂ نم جاتا ہے
ایک مجلس سے اٹھا دوسری مجلس میں گیا
کب عزادارِ ازل سوئے عدم جاتا ہے
مدحتِ سیدِ سجاّد کا آتے ہی خیال
دل وضو کرتا ہے سجدے میں قلم جاتا ہے
