پس منظر
۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا رخش ِ رواں ہے تیز گام
سانس، لمحے، دِن، مہینے اور سال
اتنی تیزی سے گزرتے ہیں
کہ رہ جاتا ہے انساں دم بخود
آج بھی اِک سال بِیتا
تلخ و شیریں کتنی یادیں
اور کتنے زخم دے کر
وقت کے گہرے سمندر میں گِرا اور مِٹ گیا
اور ابھرا آفتاب ِ سال ِ نو
کتنی امیدیں لئے، کتنے سنہرے خواب کرنوں میں سجائے
اور میں۔۔۔اِس سوچ میں گُم ہوں
کہ اِن کرنوں کے پس منظر میں کتنے زخم ہیں !
یزدانی جالندھری ۔۔۔ پس منظر
