نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے
خوشی ہی راس نہ غم ساز گار کیا کہیے
تمام رات ستاروں نے خون چھڑکا ہے
کیا ہے کیسے ترا انتظار کیا کہیے
ہر ایک یاد سے زخموں کے پھول کھلتے ہیں
تباہ دل کے چمن کی بہار کیا کہیے
ہجومِ جلوۂ رنگیں میں کھو گئی ہے نظر
بہارِ حسن کا دل کش نکھار کیا کہیے
یہ کس مقام پہ چھوڑا ہے زیست نے محسن
نہ کوئی غم نہ کوئی غم گسار کیا کہیے
