میتھیو محسن ۔۔۔ نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے

نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے خوشی ہی راس نہ غم ساز گار کیا کہیے تمام رات ستاروں نے خون چھڑکا ہے کیا ہے کیسے ترا انتظار کیا کہیے ہر ایک یاد سے زخموں کے پھول کھلتے ہیں تباہ دل کے چمن کی بہار کیا کہیے ہجومِ جلوۂ رنگیں میں کھو گئی ہے نظر بہارِ حسن کا دل کش نکھار کیا کہیے یہ کس مقام پہ چھوڑا ہے زیست نے محسن نہ کوئی غم نہ کوئی غم گسار کیا کہیے

Read More

میتھیو محسن ۔۔۔ ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں

ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں قید الفت سے رہا ہو جائیں ہم اندھیروں سے الجھ کر شاید صبحِ ارماں کی ضیا ہو جائیں وہ جنھیں اِذنِ پرستش نہ ملا ان کے ہونٹوں کی دعا ہو جائیں بڑھتی جاتی ہے عقیدت اُن سے یوں نہ ہو وہ بھی خدا ہو جائیں ہم ستم جھیلنے والے محسن اب زمانے کی صدا ہو جائیں

Read More