ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں
قید الفت سے رہا ہو جائیں
ہم اندھیروں سے الجھ کر شاید
صبحِ ارماں کی ضیا ہو جائیں
وہ جنھیں اِذنِ پرستش نہ ملا
ان کے ہونٹوں کی دعا ہو جائیں
بڑھتی جاتی ہے عقیدت اُن سے
یوں نہ ہو وہ بھی خدا ہو جائیں
ہم ستم جھیلنے والے محسن
اب زمانے کی صدا ہو جائیں
