راحت سرحدی ۔۔۔ کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ

کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ
شام دیتی ہے مزہ یارِ طرح دار کے ساتھ

شوق سے سر پہ پہن اس کو مگر یاد رہے
لوگ لٹکا بھی دیا کرتے ہیں دستار کے ساتھ

مجھ کو حیرت سے نہ دیکھو کہ میں تصویر نہیں
غم لگا دیتا ہے انسان کو دیوار کے ساتھ

جان بھی اس میں چلی جائے تو افسوس نہیں
کوئی سمجھوتا نہ ہو گا کبھی معیار کے ساتھ

یوں مرے گرد اٹھائی ہیں فصیلیں اس نے
دائرہ کھینچا ہو جیسے کسی پرکار کے ساتھ

کم ہی دیکھا ہے انہیں میں نے دوبارہ بستے
آشیانے جو اجڑ جاتے ہیں اشجار کے ساتھ

لازماً کوئی کمی ہوتی ہے ان کے خوں میں
چھوڑ کر اپنے جو جا ملتے ہیں اغیار کے ساتھ
بعض اوقات تو کر جاتی ہے دنیا وہ ہاتھ
جو طوائف بھی نہیں کرتی خریدار کے ساتھ

مبتلا ہوں اسی خوش فہمی میں اب تک راحت
تھی رضا مندی بھی شامل ترے انکار کے ساتھ

Related posts

Leave a Comment