جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے
ہم سیاست کا یہ معیار بدل ڈالیں گے
جس نے لُوٹا ہے مرے دیس کی مٹّی کا سہاگ
اِس کہانی سے وہ کردار بدل ڈالیں گے
تو نے سینچا ہے جسے اپنے لہو سے برسوں
یہ تو پل بھر میں وہ گلزار بدل ڈالیں گے
میں نہ کہتا تھا کہ یہ لوگ تو سوداگر ہیں
ترے اجداد کی اقدار بدل ڈالیں گے
سُن اے نیلام گھروں تک ہمیں لانے والے!
ہم ترا مصر کا بازار بدل ڈالیں گے
ہم نے سامانِ سفر باندھ لیا ، باندھ لیا
اب ترے ظلم کے آثار بدل ڈالیں گے
یاد رکھنا کہ وہ دن دور نہیں جب یہ نظام
بخدا ہم سے گنہگار بدل ڈالیں گے
جس میں محصور ہے اِس دور کا انسان انیس
اُس قفس کے در و دیوار بدل ڈالیں گے
