عمر بھر ایک شرر یاد آیا
ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا
ہر طرف خاک مرے اُڑنے لگی
جب بھی وہ دشت وہ سر یاد آیا
میں کہاں اس کو بھلا بھول سکا
ہاں تکلف سے مگر یاد آیا
جب بھی آیا مجھے دنیا کا خیال
ایک ممنوعہ شجر یاد آیا
سن کے ہوتا ہے تعجب مجھ کو
آرزو آپ کو گھر یاد آیا
