ثروت حسین ۔۔۔ سلام یا حسینؑ

سلام یا حسینؑ
نظر سے شامِ غریباں کا وہ سماں نہ گیا
فراخِ دشت سے پھر ایسا کارواں نہ گیا
جھلک اٹھا ہے کنارِ افق سے تابہ افق
ابد کنار ہوا خون رایگاں نہ گیا
وہ شب چراغ کہ تیرے لہو سے روشن تھا
شعاعِ مہر ہوا تو کہاں کہاں نہ گیا
ہزار شکر کہ وہ ایک لمحۂ امید
جہانِ صبر سے بے صوت بے اذاں نہ گیا
ہوائیں تیز تھیں لیکن ہمارے ہاتھوں سے
وہ اک نشان وہ دامانِ خونچکاں نہ گیا

Related posts

Leave a Comment