سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read MoreCategory: س
انور شعور
سنے وہ، اور پھر کر لے یقیں بھی بڑی ترکیب سے سچ بولتا ہوں
Read Moreحفیظ بنارسی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
Read Moreشاہین عباس
سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟ چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Read Moreمقبول عامر
سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreجون ایلیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا
Read Moreیزدانی جالندھری
سن رہے ہیں وہ انہماک کے ساتھ کوئی تو بات واقعات میں ہے
Read Moreسعادت یار خان رنگین
دم کہیں لیں گے نہ پھر تا بہ عدم تیرے کوچہ سے اگر جائیں گے ہم
Read Moreاختر انصاری اکبر آبادی
سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو ہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو
Read More