سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟
چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
