کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا
یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
