رضی رضوی ۔۔۔ مفہوم جب تک اُن سے گھمایا نہیں گیا

مفہوم جب تک اُن سے گھمایا نہیں گیا باتوں میں اُن کی ہم سے بھی آیا نہیں گیا نشو و نما ہو کیسے ہمارے وجود کی ہم سے ترا فریب بھی کھایا نہیں گیا خود آگیا تو اس لیے رکھنا پڑا اِسے یہ شعر کھینچ تان کے لایا نہیں گیا پایا نہیں گیا جو رہا ہم کو دستیاب اور گم ہوا تو ہم سے گنوایا نہیں گیا یاروں کی بے رخی ہے یقینا عروج پر کب سے مرا مذاق اُڑایا نہیں گیا

Read More

رضی رضوی ۔۔۔ کب تک جڑا رہوں گا میں اِس بیبسی کے ساتھ

کب تک جڑا رہوں گا میں اِس بیبسی کے ساتھ جینا غمِ جہان میں وہ بھی خوشی کے ساتھ نقصان اُس مقام پہ کافی مفید ہے بجھتی ہو اپنی پیاس جہاں تشنگی کے ساتھ ہے شکر آدمی کی ضرورت ہے آدمی ورنہ کسی کا ساتھ بھی کب ہے کسی کے ساتھ ہو ہی نہیں رہا تھا ترے زہر کا اثر آخر ہماری موت ہوئی زندگی کے ساتھ چپ رہ کے میرے کان کے پردے نہ پھاڑیے صاحب نہ شور کیجیے یوں خامشی کے ساتھ ہے اختیارِ عقل پہ غالب ضرورتیں…

Read More