نادیہ سحر ۔۔۔ راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں … नादिया सहर

راستے خوف سے بھرے ہوئے ہیں لوگ اندر سے سب ڈرے ہوئے ہیں وقت بدلا کہ آئنہ بدلا وہ جو پہلے تھے دوسرے ہوئے ہیں زخم ہی زخم ہو گئے ہیں ہم درد ہی درد سے بھرے ہوئے ہیں کچھ تو ایسا ہوا ہے جس کے سبب اپنے سائے سے بھی ڈرے ہوئے ہیں سامنا کیا ہوا کسی سے سحر مندمل زخم بھی ہرے ہوئے ہیں

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا

مرے ٹوٹے ہوئے دل کو دُکھانا مت کہا تھا نا اِن آنکھوں میں کبھی آنسو سجانا مت کہا تھا نا میں تنہا تھی میں تنہا ہوں مجھے معلوم ہے لیکن کبھی یہ بات تم مجھ کو بتانا مت کہا تھا نا مرے ہوتو مرے رہنا پرائے تم نہ ہوجانا تعلق تم زمانے سے نبھانا مت کہا تھا نا سمجھنے میں مجھے شاید غلط فہمی ہوئی تم کو مجھے احساس یہ ہرگز دلانا مت کہا تھا نا نہ ہو تعبیر جب ممکن تو سچائی بتا دینا کوئی بھی خواب اب مجھ…

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ سینے پہ سل پڑی ہے مجھے لگ رہا ہے آج

سینے پہ سل پڑی ہے مجھے لگ رہا ہے آج دل جس جگہ کبھی تھا وہاں آبلہ ہے آج جب تم نہیں رہے تو یہاں کب رہی ہوں میں دکھ کے سوا حیات میں کیا رہ گیا ہے آج سب ہیر پھیر وقت اور حالات کے ہیں بس کل تک رہا جو اپنا وہ بے اعتنا ہے آج کس موڑ پر ہیں لائے یہ حالاتِ زندگی ہم زندگی سے زندگی ہم سے خفا ہے آج آتی ہے ٹوٹنے کی بدستور اک صدا سینے سے مرے شور یہ کیسا اٹھا ہے…

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ پھر وہی کرب‘ وہی دکھ‘ وہی تنہائی ہے

پھر وہی کرب‘ وہی دکھ‘ وہی تنہائی ہے آخرِ کار وہیں زندگی لے آئی ہے شدتِ درد سے دل خون ہوا ہے میرا گھاؤ پہلے تھا جہاں چوٹ وہیں کھائی ہے تجھ پہ حق ہے نہ تری یاد پہ حق ہے میرا اجنبی میرے فقط تجھ سے شناسائی ہے ایسا لگتا ہے ہر اک آنکھ مجھے دیکھتی ہے ایسا لگتا ہے ہر اک شخص تماشائی ہے لوٹ آئی ہوں میں پھر عہدِ گزشتہ کی طرف ان خرابوں سے تو برسوں کی شناسائی ہے تم بھی ہو ہم سے گریزاں تو…

Read More