رحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ رنگ کا، نور کا، بو باس کا دھوکا ہی نہ ہو ! فروری 21, 2021 نويد صادق رنگ کا، نور کا، بو باس کا دھوکا ہی نہ ہو ! زندگی عشرتِ احساس کا دھوکا ہی نہ ہو ! جیسے اک خواب ہوا عہدِ گزشتہ کا ثبات دمِ آئندہ مری آس کا دھوکا ہی نہ ہو ! یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تارِ نظر ! یہ ہنر گوہرو الماس کا دھوکاہی نہ ہو ! میرے تخئیل کے ہی عکس نہ ہوں سبزہ و گْل دہر اَوہام کا ، وسواس کا دھوکا ہی نہ ہو!