نیند کے سیلاب میں ہوتا کہیں اِک جزیرہ خواب میں ہوتا کہیں وہ نظر مجھ پر نہیں پڑتی اگر آج بھی گرداب میں ہوتا کہیں چھیڑتا میں راگ کی صورت تجھے تُو اگر مضراب میں ہوتا کہیں شعر لکھنے کا مزا آتا اگر چاند بھی تالاب میں ہوتا کہیں ٹاٹ کی جانب کبھی جاتا نہ میں لُطف جو کمخواب میں ہوتا کہیں آپ نے رد کر دیا ہے ورنہ تو گوہرِ نایاب میں ہوتا کہیں بج رہا ہوتا مرا ڈنکا سحر میں اگر پنجاب میں ہوتا کہیں
Read MoreTag: Sahartab Roomani
سحرتاب رومانی ۔۔۔ کہاں تک ساتھ چلتے جُھوٹ کے ہم
کہاں تک ساتھ چلتے جُھوٹ کے ہم مسافر ہی نہ تھے اِس رُوٹ کے ہم حقیقت جانتے ہیں تیری دنیا کُھلے رکھتے ہیں تسمے بُوٹ کے ہم بلندی پر تھے لیکن ایک دن پھر گرے ہاتھوں سے تیرے چُھوٹ کے ہم ابھی تو صرف آنکھیں نم ہوئی ہیں ابھی روئے کہاں ہیں پُھوٹ کے ہم بہت سی تلخیوں کو پی رہے ہیں شرابِ ناب میں اب کُوٹ کے ہم چراغوں کا دھواں باقی رہے گا چلے جائیں گے محفل لُوٹ کے ہم سحر دیکھیں گے اپنی کرچیوں کو کبھی شیشے…
Read Moreسحر تاب رومانی ۔۔۔ چاہتوں کے امیں چلے گئے ہیں
چاہتوں کے امیں چلے گئے ہیں اِس مکاں سے مکیں چلے گئے ہیں کہیں جاتے نہیں تھے لیکن آج ہم اچانک کہیں چلے گئے ہیں روشنی بزمِ شب میں تھی جن سے وہ ستارہ جبیں چلے گئے ہیں چند سامع ہیں اورمیں ہوں اب سارے مسند نشیں چلے گئے ہیں آسمانوں کی گفتگو سُن کر لوگ زیرِ زمیں چلے گئے ہیں ہر شکایت تری بجا ہے مگر ہم وہیں سے وہیں چلے گئے ہیں کوئی آیا گیا کہاں ہے یہاں ہم تھے آئے، ہمیں چلے گئے ہیں اور کچھ تو…
Read Moreسحر تاب رومانی ۔۔۔ پیڑ سے جھڑتے ہوئے اِن پات سے
پیڑ سے جھڑتے ہوئے اِن پات سے بات پیدا کر رہا ہوں بات سے زندگی جیسے کوئی خالی مکاں اور میں بھرپور امکانات سے آنکھ میری تھی برسنا چاہتی مسئلہ تھا شہر کو برسات سے ایک دن پھر قحط پیدا ہو گیا میرے گھر میں رزق کی بہتات سے خواب میں بیٹھا ہوں اک اونچی جگہ دل پریشاں ہے مِرا کل رات سے مغز ماری کون کرتا اِس قدر میں نے سمجھوتا کیا حالات سے دیکھیے اب جیت کس کی ہوتی ہے چھیڑ دی ہے جنگ اپنی ذات سے کیوں…
Read More