رضوان احمد ۔۔۔ سابق بھارتی وزیرِ اعظم وی پی سنگھ: سیاست دان شاعر

بھارت کے سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کا انتقال 26 نومبر 2008کو ہوا تھا، لیکن ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے سبب یہ خبر دب کر رہ گئی۔ حالانکہ وی پی سنگھ ایسے وزیر اعظم تھے جنہوں نے ملک کی سیاست کا دھارا ہی تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے1989ء میں پسماندہ ذاتوں اور دبے،کچلے عوام کے لیے شدید مخالفتوں کے باوجود منڈل کمیشن لاگو کیا تھا اور اس کے باعث ان کی حکومت بھی چلی گئی تھی لیکن اس کی پروا نہ کرتے ہوئے وی پی سنگھ نے کہا تھا کہ اب بیس برسوں تک سیاست اسی نہج پر چلے گی اور یہ حقیقت بھی ہے۔ 20سال ہونے جا رہے ہیں اب بھی ملک کی سیاست کا محور منڈل کمیشن ہی ہے۔

وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد وی پی سنگھ نے سیاست سے تقریباً کنارہ کشی ہی کر لی تھی اور اس کے بعد وہ تخلیقی کاموں میں مصروف ہو گئے تھے۔ وہ شاعری کرتے رہے اور اپنے تخلیقی صلاحیتوں کا اظہارکینوس پر تصویریں بنا کر بھی کیا۔ ان کی تصاویر کی نمائشیں بھی ہوئیں اور دیکھنے والوں سے داد و تحسین حاصل کی۔

وی پی سنگھ ہندی میں شاعری کرتے تھے، لیکن ان کی زبان اردو سے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کئی شعری نشستوں میں اپنا کلام سنایا تھا۔ ایک نشست میں تو ملک کے تین سابق وزیرا عظم نرسمہا راؤ، چندر شیکھر اور اندر کمار گجرال بھی موجودتھے۔وی پی سنگھ کو بلڈ کینسر تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کے 13برس ڈایالاسس پر گزارے۔ اس کے باوجود ان کے اندر موت سے لڑنے کا بڑا شدید جذبہ تھا۔ یہ جذبہ ان کی نظموں میں بھی جاری وساری ہے۔

وی پی سنگھ ایک راج خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مانڈا کے راجہ کے صاحبزادہ تھے، اس لیے راجہ مانڈا بھی کہلاتے تھے لیکن الہ آباد یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کا عام اشخاص سے تعلق پیدا ہوا اور پھر سیاست میں آنے کے بعد تو بالکل ہی عام انسان بن گئے۔ وہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیرا علیٰ رہے اور مرکز میں بھی مالیات،دفاع اور تجارت جیسی وزارتوں کے وزیر رہے۔ 1987ءمیں راجیو گاندھی کے ساتھ ان کا اختلاف ہوا تو انہوں نے جن مورچہ کی تشکیل کی اور پھر اسی جن مورچہ کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کا الکشن  جیتے اور ملک کے وزیر اعظم بنے۔

وی پی سنگھ کی نظموں کا مجموعہ ”ایک ٹکڑا دھرتی،ایک ٹکڑا آکاش“کے نام سے ہندی میں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ سہیل اختر وارثی نے کیا تھا اور یہ ”تھوڑی سی زمین، تھوڑا سا آسمان “ کے عنوان سے چھپا تھا۔ ہندی کے سربراودہ ناقد نامور سنگھ کا خیال ہے کہ غالب کی طرح وی پی سنگھ بھی ایسے گلشن کے بلبل ہیں جو ابھی تک بنا ہی نہیں ہے۔ہندی شاعری میں ایسی صفت ست شری کے دوہوں میں پائی جاتی ہے۔

وی پی سنگھ نے سیاست کی راہداریوں کو بہت نزدیک سے دیکھا تھا۔ اس لیے سیاست کی ناہمواریاں ان کی شاعری میں ملتی ہیں۔ انہوں نے غریب اور مفلس عوام کے درد کو بھی سمجھا تھا اس لیے یہ درد ان کی نظموں میں دستک دیتا ہے۔ درا صل یہ نظمیں ایسے حساس شاعر کے قلم سے نکلی ہیں جو سیاست کی معراج تک پہنچا تھا لیکن سماج کے آخری آدمی پر بھی اس کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں:

ان کی ایک نظم کا عنوان ہے ” مفلس “

مفلس سے
اب چور بن رہا ہوں
پر
اس بھرے بازار میں
چراؤں کیا ؟
یہاں وہی چیزیں سجی ہیں
جنہیں لٹا کر
میں
مفلس ہو چکا ہوں

اس نظم سے وی پی سنگھ کا سارا درد و کرب ظاہر ہوتا ہے او راس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ اقتدار کے عروج پر پہنچ کر بھی انسان کس بے ثباتی کا شکار ہو تا ہے۔ ان کی ایک اور نظم ” گمنام“ ملاحظہ ہو:

ایک دن میرا نام
مجھ سے الگ جا کھڑا ہوا
”ان دونو ں میں
تم کون ہو“
اپنے نام کو ہی
سچ بتا
میں اپنے کو نکار گیا
تب سے اس جگ میں
میں
ایک اپرچت
گمنام ہوں

وی پی سنگھ معاشرے میں پنپتی ہوئی ناہمواریوں، مایوسیوں اور محرومیوں کو حسی پیکروں میں ڈھال کر ایسا روپ عطا کرتے ہیں جس میں فکر و جذبے کی ہم آہنگی صاف نظر آتی ہے۔ چونکہ وہ بساط سیاست پر کھیلی جانے والی شطرنجی چالوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اس کا فہم اور ادراک رکھتے ہیں۔لیکن تخلیق کی شبنم ان شعلوں کو رقص کی مہلت نہیں دیتی اور وہ کہہ اٹھتے ہیں:

ایک ہی رات کا ہے ان کا راج
پر بانٹ لیا سارا آکاش

ان کی نظموں میں حسین تشبیہات اور بر محل استعاروں کو استعمال مضمون کے حسن کو نہ صرف دو چند کر دیتا ہے بلکہ وسیع معنی عطاکرتا ہے۔ یوں تو ان کی نظموں میں اختصار ہو تا ہے۔ لیکن مشاہدے کی باریکی اور وسعت اسے نئے معنی عطا کرتی ہے۔ نظم ”آئینہ“:

میرا ایک طرف چمک دار ہے
اس میں چہرے کی چہل پہل ہے
اسے دنیا دیکھتی ہے
دوسری جانب
کوئی نہیں
میں بھی نہیں
اسے میں ہی اکیلے دیکھتا ہوں

ایک اور نظم ہے” چہرے کی چہار دیواری“:
اس کے چہرے کی چہار دیواری پر
کتنوں نے اپنے اشتہار چپکائے
اور وہ
اپنے چہرے کی دیوار کے اس پار
ایک عمر قیدی کی طرح
اپنے ہاتھ میں
اپنے ہاتھ میں
پیرو ل کی درخواست لیے رہ گئی

وی پی سنگھ کی متعدد نظمیں قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ کیوں کہ وہ احساس کے تاروں کو چھیڑ دیتی ہیں:

تو سنو ایک دن کی بات
شام کو
چوراہے پر
ایک ایم ایل اے گولی سے مارا گیا
لڑکا بار بار چلا رہا تھا
اس کے ہاتھ پر
اخباروں کی تہیں تھیں
بازار میں
پانچ پیسے میں
میں نے اپنے دوست کی موت کی خبر
خریدی
اور لوگوں نے بھی خریدیں
ایک ہے اخبار
موت کا بیوپار
پر آج وہ لڑکا
آرام سے روٹی کھائے گا
یہ ہے وہ
جو کل صبح
اخبار میں نہیں آئے گا

(نظم” اخبار والا “)

Related posts

Leave a Comment