تازہ اِس طرح کوئی صبح کا امکاں کر لیں کوئی جُگنو ہی شبِ غم میں فروزاں کر لیں تیرے پیکر کی تصوّر میں سجا کر خوشبو درد کے مارے ہُوئے جشنِ بہاراں کر لیں اب یہی ایک ہی صُورت ہے مرے دِل زدگاں چاٹ کر زخمِ جِگر درد کا درماں کر لیں یہ سلیقہ یہ ہنر آتا ہے آتے آتے کسی حسرت کسی ارماں کو غزل خواں کر لیں مہرباں آپ پہ ہے وقت کی ترتیب ابھی جِس قدر چاہیں مجھے آپ پریشاں کر لیں شعر یہ سوچ کے قائل…
Read MoreTag: عمر قیاز قائل
عمر قیاز قائل ۔۔۔ نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے
نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے تُو آئے گا تو دکھی لوگ مر گئے ہوں گے شکست خُوردہ و دامن بہ ریزہ آہ بلب ہم ایسے اہلِ وفا کام کر گئے ہوں گے وہ اِس گماں پہ کوئی تازہ زخم دے جاتے پُرانے زخم جِگر کے تو بھر گئے ہوں گے ہَوائیں تیز چلیں گی تو طاقِ جاں میں رہے حیات و موت کی چوکھٹ پہ ڈر گئے ہوں گے وہی ہے آج بھی میرے چمن کی وِیرانی زمانے بھر کے خرابے سنور گئے ہوں گے مِلا…
Read Moreعمر قیاز قائل ۔۔۔ آشنا میرے مری بات جو مانے ہوتے
آشنا میرے مری بات جو مانے ہوتے ساتھ چلنے کے لیے آج زمانے ہوتے تو مری راہ کی دیوار بنا ہے کب سے ورنہ ہر لب پہ مرے آج فسانے ہوتے کتنا انمول بِکا حُسن ترا گلیوں میں میں ہی لے لیتا اگر پاس خزانے ہوتے تُو شبِ غم کی اذیت سے جو گزرا ہوتا دوست ایسے نہ ترے حیلے، بَہانے ہوتے اَب جو آسائشیں حاصل ہیں تو یہ سوچتا ہُوں کاش ہمراہ مرے دوست پُرانے ہوتے فیصلہ جس نے بہت سخت سنایا قائل کاش اُس نے مرے حالات بھی…
Read Moreعمر قیاز قائل ۔۔۔ دِل سمندر تھا مگر غم بھی ہَوا جیسا تھا
دِل سمندر تھا مگر غم بھی ہَوا جیسا تھا جو بھی لمحہ تھا میسر وہ سزا جیسا تھا اُس کے سانسوں کی حرارت سے خبر ملتی تھی میرے ماحول میں وہ شخص صدا جیسا تھا میں تہی دست اُسی شہر سے لوٹ آیا ہُوں وہ کہ جس شہر کا ہر شخص خُدا جیسا تھا ڈھانپ رکھا تھا سرِ شہر برہنہ اُس نے جسم سے لپٹا ہوا کوئی قبا جیسا تھا وقت نے چھین لیا اُس کو بھی آخر قائل وہ جو کشکولِ تمنا میں عطا جیسا تھا
Read More