عمر قیاز قائل ۔۔۔ میں جو اِس بار ہَواؤں کی حمایت کرتا

میں جو اِس بار ہَواؤں کی حمایت کرتا کون جلتی ہُوئی شمعوں کی حفاظت کرتا شہر کا شہر تھا قاتل کی طرفداری میں میں کہاں جا کے بھلا اپنی شکایت کرتا ایک لمحے کی جُدائی بھی قیامت سمجھا عُمر بھر کے لیے کیوں قطعِ محبّت کرتا اپنا ہی شہر تھا سب لوگ مرے اپنے تھے دُکھ کی یُورش تھی مگر کیسے میں ہجرت کرتا اُس نے چھلنی مرے احساس کو کر دینا تھا کون اُس خارِ مُغیلاں سے محبّت کرتا لوگ اندھے بھی تھے بِہرے بھی تھے ورنہ قائل جی…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ اب نہ گزرے ہُوئے ماضی کو صدائیں دینا

اب نہ گزرے ہُوئے ماضی کو صدائیں دینا اِس دبی آگ کو ہرگز نہ ہَوائیں دینا نفرتیں بڑھ گئیں اِس تیری زمیں پر زِیادہ اے خُدا میرے مجھے اور خَلائیں دینا اُس کاہے طرزِ تغافل تو دِل آزار بہت کام اپنا ہے مگر اُس کو دُعائیں دینا اے خُدا! اَگلے جَنم پر ہے تمنّا میری بے لباسی کو مرے اور قبائیں دینا جانتا ہُوں کہ نہیں لوٹ کے آنے والا میری عادت ہے اُسے پھر بھی صدائیں دینا حرفِ دُشنام ہے مقسوم سدا سے اپنا کارِ آسان نہیں ہم کو…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ تیرے چمن میں پُھول ہیں میرے چمن میں آگ

تیرے چمن میں پُھول ہیں میرے چمن میں آگ تیرا شریر برف مرے تن بدن میں آگ تیری جوانیاں گلِ تازہ کی ہم رِکاب میرے وطن کی دُلہنوں کے بانکپن میں آگ تیری ہنسی میں نغمگی، نغموں کی جلترنگ میرے لبوں پہ غم مرے سارے بدن میں آگ تیرے بَنوں میں سُرخ محبت کے ہیں گُلاب ہر شے جلا رہی ہے مگر میرے بَن میں آگ پھیلیں گے اُس کے شُعلے تِری انجمن تلک تُو نے کہ جو لگائی ہے میرے چمن میں آگ شُعلہ بجاں تھے شُعلہ بجاں عمر…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ آشنا میرے مری بات جو مانے ہوتے

آشنا میرے مری بات جو مانے ہوتے ساتھ چلنے کے لیے آج زمانے ہوتے تو مری راہ کی دیوار بنا ہے کب سے ورنہ ہر لب پہ مرے آج فسانے ہوتے کتنا انمول بِکا حُسن ترا گلیوں میں میں ہی لے لیتا اگر پاس خزانے ہوتے تُو شبِ غم کی اذیت سے جو گزرا ہوتا دوست ایسے نہ ترے حیلے، بَہانے ہوتے اَب جو آسائشیں حاصل ہیں تو یہ سوچتا ہُوں کاش ہمراہ مرے دوست پُرانے ہوتے فیصلہ جس نے بہت سخت سنایا قائل کاش اُس نے مرے حالات بھی…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ دِل سمندر تھا مگر غم بھی ہَوا جیسا تھا

دِل سمندر تھا مگر غم بھی ہَوا جیسا تھا جو بھی لمحہ تھا میسر وہ سزا جیسا تھا اُس کے سانسوں کی حرارت سے خبر ملتی تھی میرے ماحول میں وہ شخص صدا جیسا تھا میں تہی دست اُسی شہر سے لوٹ آیا ہُوں وہ کہ جس شہر کا ہر شخص خُدا جیسا تھا ڈھانپ رکھا تھا سرِ شہر برہنہ اُس نے جسم سے لپٹا ہوا کوئی قبا جیسا تھا وقت نے چھین لیا اُس کو بھی آخر قائل وہ جو کشکولِ تمنا میں عطا جیسا تھا

Read More