عمر قیاز قائل ۔۔۔ نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے

نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے
تُو آئے گا تو دکھی لوگ مر گئے ہوں گے

شکست خُوردہ و دامن بہ ریزہ آہ بلب
ہم ایسے اہلِ وفا کام کر گئے ہوں گے

وہ اِس گماں پہ کوئی تازہ زخم دے جاتے
پُرانے زخم جِگر کے تو بھر گئے ہوں گے

ہَوائیں تیز چلیں گی تو طاقِ جاں میں رہے
حیات و موت کی چوکھٹ پہ ڈر گئے ہوں گے

وہی ہے آج بھی میرے چمن کی وِیرانی
زمانے بھر کے خرابے سنور گئے ہوں گے

مِلا سُراغ شبِ طُور میں نہیں جِن کو
نہ جانے لوگ وہ قائل کدھر گئے ہوں گے

Related posts

Leave a Comment