فرحت پروین ۔۔۔ تمھارے چار سو میں ہوں

’’کبوتر کے پروں پر لکھ کے جو پیغام بھیجا تھا
ملا تم کو؟‘‘
ابھی تو رنگ بھرنے تھے بہت سے میں نے لفظوں میں
بھلا بیٹھی جو عجلت میں
سو تتلی کو روانہ کر دیا ہے اس تعاقب میں
مگر پھر ناگہاں دل میں خیال آیا
مرا سوزِ دروں شاید عیاں پھر بھی نہ ہو پائے
تمہاری سمت اب محوِ سفر ہے ایک بلبل بھی
مگر وہ ہوک جو رہ رہ کے اٹھتی ہے مرے دل سے
تڑپ اس کی سما پائے گی کیا بلبل کے نغمے میں
سو لازم تھا کہ کوئل کو بھی بھیجوں میں
مکمل ہو گیا میرا سندیسہ مطمئن تھی میں
کہ اک جھونکے نے سرگوشی میں پوچھا یہ شرارت سے
’’کہو تو میں تمھارا لمس لے جاؤں؟‘‘
نہ جانے کیوں چھلک اٹھیں مری آنکھیں
گھٹا نے جھک کے آنسو پی لیے میرے
ہوا  کے سنگ وہ بادل فضاؤں کے سفر میں ہے
سو اب تم جس طرف جاؤ جدھر دیکھو
تمہارے چار سو میں ہوں

Related posts

Leave a Comment