فرحت پروین ۔۔۔ تمھارے چار سو میں ہوں

’’کبوتر کے پروں پر لکھ کے جو پیغام بھیجا تھا ملا تم کو؟‘‘ ابھی تو رنگ بھرنے تھے بہت سے میں نے لفظوں میں بھلا بیٹھی جو عجلت میں سو تتلی کو روانہ کر دیا ہے اس تعاقب میں مگر پھر ناگہاں دل میں خیال آیا مرا سوزِ دروں شاید عیاں پھر بھی نہ ہو پائے تمہاری سمت اب محوِ سفر ہے ایک بلبل بھی مگر وہ ہوک جو رہ رہ کے اٹھتی ہے مرے دل سے تڑپ اس کی سما پائے گی کیا بلبل کے نغمے میں سو لازم…

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ گولڈ فش

گولڈ فش​ وہ کسی بے روح لاشے کی طرح بالکل سیدھی لیٹی ہوتی۔ صرف وقفے وقفے سے جھپکتی پلکیں اس کے زندہ ہونے کا پتہ دیتیں ۔وہ شاذ ہی کروٹ کے بَل لیٹتی یا کروٹ بدلتی۔ کم از کم شازینہ نے اسے کبھی پہلو کے بل لیٹے نہیں دیکھا تھا۔ وہ جب بھی اس کے پاس گئی اُسے یونہی مردوں کی طرح بے حس و حرکت لیٹے ہوئے پایا۔ وہ ایک آرام دہ پرائیویٹ کمرے میں مقیم تھی۔ اُس کے کمرے میں ہر سہولت موجود ہونے کے علاوہ روزانہ تازہ…

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ آخری بُت

آخری بُت ۔۔۔۔۔۔۔ تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں تیرا استھان کہ اونچا تھا ۔۔۔ بہت اُونچا تھا گِر کے تُو چُور ہوا ہے ایسے بڑی مشکل سے سمیٹے ترے ریزے میں نے اور بڑے کرب سے دفنایا ہے گردِ حیرت سے اَٹے چہرے پر تہہ بہ تہہ دُکھ بھی ہیں مایوسی بھی جلتے صحرائوں میں آنکھوں کی مِرے اَن گنت اُلجھے سوالوں کے بگولے رقصاں ریت کے ذرّے نہیں یہ میں ہوں میرا ایقانِ شکستہ مِری اُمیدیں ہیں تُو کہ تھا آخری بُت میرے صنم خانے کا تجھ…

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ پیام میرا ملا تو ہو گا

پیام میرا ملا تو ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا کے کومل سُبک بدن پر جو چاند کِرنوں سے لکھ کے بھیجا پیام میرا ملا تو ہو گا؟ میں آنے والے ہر ایک جھونکے سے پوچھتی ہوں جو اب لائے؟ مگر وہ نظریں چُرا کے ایسے نکل گئے ہیں کہ جس طرح سے کوئی تونگر کسی شناسائے بے نوا سے نظر بچا کے بدل لے رستہ

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ تمھیں آزاد کرتی ہوں

تمھیں آزاد کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کوئی عُذر ڈھونڈواور نہ اب نظریں چرائو تممجھے معلوم ہےمیں سب سمجھتی ہوںتمھارے عہدِ الفت سے تمھیں آزاد کرتی ہوںاب ایسا ہے کہ پتھرکا زمانہ پھر سے لوٹ آیاوہی قانون جنگل کا، جبلت کا غلام انساںفرازِ عرش سے پاتال تک کا ہے سفر یعنیفراق و ہجر کے موسم ہوئے پارینہ قصے اببکثرت ہیں میسر اب تو معشوقانِ شیریں لبمیں ہوں حیرت زدہ اب تکوہ کیسے لوگ تھے آخرلہو سے کر گئے رنگین جو الفت کے قصوں کوعجب ہی رہ نکالی تھیوفا کی رسم ڈالی تھیمیں قصہ…

Read More