آخری بُت ۔۔۔۔۔۔۔ تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں تیرا استھان کہ اونچا تھا ۔۔۔ بہت اُونچا تھا گِر کے تُو چُور ہوا ہے ایسے بڑی مشکل سے سمیٹے ترے ریزے میں نے اور بڑے کرب سے دفنایا ہے گردِ حیرت سے اَٹے چہرے پر تہہ بہ تہہ دُکھ بھی ہیں مایوسی بھی جلتے صحرائوں میں آنکھوں کی مِرے اَن گنت اُلجھے سوالوں کے بگولے رقصاں ریت کے ذرّے نہیں یہ میں ہوں میرا ایقانِ شکستہ مِری اُمیدیں ہیں تُو کہ تھا آخری بُت میرے صنم خانے کا تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں
Related posts
-
اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے... -
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو... -
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ...
