آخری بُت ۔۔۔۔۔۔۔ تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں تیرا استھان کہ اونچا تھا ۔۔۔ بہت اُونچا تھا گِر کے تُو چُور ہوا ہے ایسے بڑی مشکل سے سمیٹے ترے ریزے میں نے اور بڑے کرب سے دفنایا ہے گردِ حیرت سے اَٹے چہرے پر تہہ بہ تہہ دُکھ بھی ہیں مایوسی بھی جلتے صحرائوں میں آنکھوں کی مِرے اَن گنت اُلجھے سوالوں کے بگولے رقصاں ریت کے ذرّے نہیں یہ میں ہوں میرا ایقانِ شکستہ مِری اُمیدیں ہیں تُو کہ تھا آخری بُت میرے صنم خانے کا تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
