پیام میرا ملا تو ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا کے کومل سُبک بدن پر جو چاند کِرنوں سے لکھ کے بھیجا پیام میرا ملا تو ہو گا؟ میں آنے والے ہر ایک جھونکے سے پوچھتی ہوں جو اب لائے؟ مگر وہ نظریں چُرا کے ایسے نکل گئے ہیں کہ جس طرح سے کوئی تونگر کسی شناسائے بے نوا سے نظر بچا کے بدل لے رستہ
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
