عمر قیاز قائل ۔۔۔ تازہ اِس طرح کوئی صبح کا امکاں کر لیں

تازہ اِس طرح کوئی صبح کا امکاں کر لیں کوئی جُگنو ہی شبِ غم میں فروزاں کر لیں تیرے پیکر کی تصوّر میں سجا کر خوشبو درد کے مارے ہُوئے جشنِ بہاراں کر لیں اب یہی ایک ہی صُورت ہے مرے دِل زدگاں چاٹ کر زخمِ جِگر درد کا درماں کر لیں یہ سلیقہ یہ ہنر آتا ہے آتے آتے کسی حسرت کسی ارماں کو غزل خواں کر لیں مہرباں آپ پہ ہے وقت کی ترتیب ابھی جِس قدر چاہیں مجھے آپ پریشاں کر لیں شعر یہ سوچ کے قائل…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے

نظر کے زخم جِگر تک اُتر گئے ہوں گے تُو آئے گا تو دکھی لوگ مر گئے ہوں گے شکست خُوردہ و دامن بہ ریزہ آہ بلب ہم ایسے اہلِ وفا کام کر گئے ہوں گے وہ اِس گماں پہ کوئی تازہ زخم دے جاتے پُرانے زخم جِگر کے تو بھر گئے ہوں گے ہَوائیں تیز چلیں گی تو طاقِ جاں میں رہے حیات و موت کی چوکھٹ پہ ڈر گئے ہوں گے وہی ہے آج بھی میرے چمن کی وِیرانی زمانے بھر کے خرابے سنور گئے ہوں گے مِلا…

Read More