تازہ اِس طرح کوئی صبح کا امکاں کر لیں
کوئی جُگنو ہی شبِ غم میں فروزاں کر لیں
تیرے پیکر کی تصوّر میں سجا کر خوشبو
درد کے مارے ہُوئے جشنِ بہاراں کر لیں
اب یہی ایک ہی صُورت ہے مرے دِل زدگاں
چاٹ کر زخمِ جِگر درد کا درماں کر لیں
یہ سلیقہ یہ ہنر آتا ہے آتے آتے
کسی حسرت کسی ارماں کو غزل خواں کر لیں
مہرباں آپ پہ ہے وقت کی ترتیب ابھی
جِس قدر چاہیں مجھے آپ پریشاں کر لیں
شعر یہ سوچ کے قائل نہیں کہتے ہم لوگ
اِس کو انگشت بہ دنداں، اُسے حیراں کر لیں
