نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ حسنین مظہری

یاد جس وقت در و بامِ حرم آتے ہیں
کتنے ہی اشک پسِ دیدۂ نم آتے ہیں

یہ مدینہ ہے شہِ ارض و سما کی بستی
چین کرنے کو یہاں سوختہ دم آتے ہیں

ہوگئے دیکھتے ہی حلقہ بہ گوشِ اسلام
وہ جو ہاتھوں میں لیے تیغِ دو دم آتے ہیں

جب بھی مشکل میں پکاروں کہ کوئی ہے میرا
دفعتاً آتی ہے آواز کہ ہم آتے ہیں

ماہ وخورشید شب و روز سرِ بامِ حرم
بہرِ دیدارِ شہنشاہِ اُمم آتے ہیں

ایک لمحے میں اتر جاتی ہے صدیوں کی تھکن
ہم کہ جس آن تہِ ظلِ عَلَم آتے ہیں

جد و سبطین سے مجھ کو ہے برابر الفت
جب بھی آتے ہیں مجھے یاد بہم آتے ہیں

آپ کے ذکر سے مل جاتی ہے ہمت ہم کو
جب کبھی زیرِ گراں بارِ الم آتے ہیں

Related posts

Leave a Comment