یاد جس وقت در و بامِ حرم آتے ہیں کتنے ہی اشک پسِ دیدۂ نم آتے ہیں یہ مدینہ ہے شہِ ارض و سما کی بستی چین کرنے کو یہاں سوختہ دم آتے ہیں ہوگئے دیکھتے ہی حلقہ بہ گوشِ اسلام وہ جو ہاتھوں میں لیے تیغِ دو دم آتے ہیں جب بھی مشکل میں پکاروں کہ کوئی ہے میرا دفعتاً آتی ہے آواز کہ ہم آتے ہیں ماہ وخورشید شب و روز سرِ بامِ حرم بہرِ دیدارِ شہنشاہِ اُمم آتے ہیں ایک لمحے میں اتر جاتی ہے صدیوں کی…
Read More