افضل خان ۔۔۔ جس جگہ جا کے لگے شور شرابہ اچھا مارچ 5, 2021 نويد صادق جس جگہ جا کے لگے شور شرابہ اچھا شہر میں اک بھی نہیں چائے کا ڈھابہ اچھا ہاں مجھے اندھی عقیدت ہے، نہ یوں بحث کرو میں بھی کہتا ہوں کہ تھا عہدِ صحابہ اچھا دونوں جانب سے رہا کرتا ہے سیلاب کا خوف ہے مری دشت مزاجی کو دوآبہ اچھا شہر والوں کے لیے منع ہے جنگل میں شکار پیشِ اشجار نہیں خون خرابہ اچھا مدحِ جاناں کے لیے ہجر ضروری ہے مجھے میں جدا ہو کے ملاتا ہوں قلابہ اچھا کان دھرتا نہ تھا گھر میں کوئ میری ضد پر صرف ماں کہتی تھی ” اچھا ارے بابا، اچھا