توقیر عباس

  (نذر جون ایلیا) قائل آہ و فغاں کے تھے ہی نہیں سائے اس سائباں کے تھے ہی نہیں ہمیں لوگوں نےاجنبی سمجھا  ہم تو جیسے یہاں کے تھے ہی نہیں اس لئے تھا گریز وحشت سے  ہم کسی بد گماں کے تھے ہی نہیں دستِ قدرت سے ہم ہیں نکلے ہوئے تیر تیری کماں کے تھے ہی نہیں ہم تھے منسوب ایک سورج سے  دھوپ تھے سائباں کے تھے ہی نہیں تم نے روشن تو کر لیا ہے، مگر  ہم دیے اس مکاں کے تھے ہی نہیں اپنے آفاق…

Read More

عطاء الرحمن قاضی

  جمع تھے ہجر کی دہلیز پہ ڈھلتے ساۓ کون اب گزرے زمانوں کی کتھا دہراۓ ہم زمیں زاد، خداؤں سے گلا کیا کرتے ہم جو افلاک سے اک زخم کی حیرت لاۓ رات، سرخاب پہ گزری کہ قیامت گزری لمحہ لمحہ کوئی پیکانہوا تڑپاۓ آگ جلتی ہی رہی، ابر برستا ہی رہا ہم بھی اک یاد کے مرقد پہ دیا رکھ آۓ آخری رات تھی آنکھوں میں کوئ خواب نہ تھا جیسے بچہ کوئ جنگل میں کہیں کھو جاۓ پوششساعتِ رفتہ میں چھپی گلفامی رات آۓ تو چراغوں کو…

Read More

ڈاکٹر فخر عباس

یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے اور وہ “اور” تم نہیں شاید مجھ کو جس اور سے محبت ہے یہ ہوں میں اور یہ مری تصویر دیکھ لے غور سے، محبت ہے بچپنا، کم سنی، جوانی، آج تیرے ہر دور سے محبت ہے ایک تہذیب ہے مجھے مقصود مجھ کو اک دور سے محبت ہے اس کی ہر طرز مجھ کو بھاتی ہے اس کے ہر طور سے محبت ہے

Read More

کاشف حسین غائر

  وہ رات جا چکی، وہ ستارہ بھی جا چکا آیا نہیں جو دن، وہ گزارا بھی جا چکا اِس پار ہم کھڑے ہیں ابھی تک اور اُس طرف لہروں کے ساتھ ساتھ کنارہ بھی جا چکا دکھ ہے، ملال ہے، وہی پہلا سا حال ہے جانے کو اس گلی میں دوبارہ بھی جا چکا کیا جانے کس خیال میں عمرِ رواں گئی ہاتھوں سے زندگی کے خسارہ بھی جا چکا کاشف حسین چھوڑیے اب زندگی کا کھیل جیتا بھی جا چکا اسے ہارا بھی جا چکا

Read More

توصیف تبسم

  اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں بہہ جائیں لہو بن کے یہ حسرت ہے دلوں میں دریا ہو تو موجوں میں کُھلے اُس کا سراپا پاگل ہے ہوا چیختی پھرتی ہے بنوں میں تیشے کی صدا میری ہی فریاد تھی گویا میری ہی طرح تھا کوئی پتھر کی سِلوں میں یوں آج پھر اک حسرتِ ناکام پہ روئے جیسے نہ تھے پہلے کبھی آزردہ دلوں میں رستوں پہ اُمڈتا ہوا پھولوں کا سمندر حیران ہوں کس طرح سمایا ہے گھروں میں کھینچا تھا جنوں نے جسے…

Read More

سید آلِ احمد

تو بے سبب ہے مری ذات سے خفا، کچھ سوچ ہے اس خرابے میں دل کس کا آئنہ، کچھ سوچ دماغ پر ہے مسلّط سکوت سا کچھ، سوچ ہے شام ہی سے یہ دل کیوں بجھا بجھا، کچھ سوچ خفا نہ ہو کہ کڑی دوپہر میں آیا ہوں میں تنہا کیسے یہ لمحے گزارتا‘ کچھ سوچ تھا جس کی لو سے منور یہ خواہشوں کا مکاں وہ اک چراغ بھی تو نے بجھا دیا، کچھ سوچ یہ اجتناب‘ یہ خط فاصلے کا کیسے کھنچا وہ جذبہ ختم بھلا کیسے ہو گیا،…

Read More