بیٹھا ہے عشق یوں سرِ منزل تھکا ہوا رستے میں جیسے کوئی مسافر لٹا ہوا
Read MoreMonth: 2019 اگست
حزیں صدیقی
موجوں کا سانس ہے لبِ دریا رکا ہوا شاید ابھر رہا ہے کوئی ڈوبتا ہوا
Read Moreاعجاز گل
کُھلی آنکھوں سے دیکھا خواب خوش منظر لگا ہے شب ِ غفلت تماشاے عبث سے ڈر لگا ہے سمیٹے حجمِ انسانی نے طول و عرض سارے وہ نکلا قد کہ جا کر آسماں میں سر لگا ہے کوئی سنتا نہیں اچھی خبر لیکن بری سی پہنچتی شرق و غرب ایسے ہے، گویا پر لگا ہے کہیں کاغذ پڑا دیکھا تو سمجھے خط کسی کا ہوئی آہٹ برونِ در تو نامہ بر لگا ہے تھا حرفِ مدعا انکار کی آتش میں غلطاں جو نکلا کیمیا ہو کر تو شعرِ زر…
Read Moreمحسن اسرار
مرے وجود کا ہر لازمہ سوالی ہے یقین کر، مرا کشکول اب بھی خالی ہے بطورِ خاص ابھی تک تو کچھ ہوا ہی نہیں مری طرح مری دنیا بھی لاابالی ہے بھلے لگے ہیں مجھے گھاس پھوس والے لوگ سو میں نے خود بھی یہاں جھونپڑی بنا لی ہے میں سارا دن کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھا کہا جب اس نے کہ اب شام ہونے والی ہے ہمارے پینے کا پانی بھی لے گیا سیلاب کوئی بتائے کہ یہ کیسی خشک سالی ہے تمھیں یہ حق ہی نہیں…
Read Moreشاہد ماکلی
کتابوں میں نظر انداز تھے کتنے زمانوں سے نکل آئے ہیں کردار اپنی اپنی داستانوں سے تنفس کے لیے سامانِ دعوت ہر طرح کا ہے دھوئیں کے ساتھ اٹھتی ہے مہک بھی قہوہ خانوں سے کبھی حاصل سے بھی لاحاصلی کی یاد آتی ہے مہک جنت کی آتی ہے مجھے گندم کے دانوں سے گل ِمحشر کا کھلنا ہے سمے کا منقطع ہونا تم آتے ہو تو کٹ جاتا ہے دل تینوں زمانوں سے زمانہ ہر جگہ محتاج ہے سورج کی کرنوں کا خلا میں کشتیاں چلتی ہیں شمسی…
Read Moreرانا سعید دوشی
چلو تم کو ملاتا ہوں میں اس مہمان سے پہلے جو میرے جسم میں رہتا تھا میری جان سے پہلے محبت کرنے نکلے ہو تو صحرا اوڑھنے ہوں گے یہ باتیں پوچھ لینا تم تنِ آسان سے پہلے مجھے جی بھر کے اپنی موت کو تو دیکھ لینے دو نکل جائے نہ میری جاں، مرے ارمان سے پہلے مری آنکھوں میں آبی موتیوں کا سلسلہ دیکھو کہ سو، تسبیح کرتا ہوں میں اک مسکان سے پہلے کوئی خاموش ہو جائے تو اس کی خامشی سے ڈر سمندر چپ ہی…
Read Moreمعین نظامی
تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے ورنہ تو دل نشیں تھے بہت کفر و دیں مجھے مجھ کو وہ چہرہ خواب میں دیکھا ہوا لگا دیکھا ہوا تھا اس نے بھی شاید وہیں مجھے تقسیم کرنے والے نے ایسا کرم کیا انگشتری کسی کو ملی اور نگیں مجھے مجھ پر عطاے خاص ہے سانپوں کے باب میں رکھتی ہے خود کفیل مری آستیں مجھے دربار میں بلایا گیا ہوں نہ جانے کیوں آتا نہیں ہے کچھ بھی سواے "نہیں” مجھے
Read Moreانور شعور
اُس نے جتنا کیا نظر انداز وہ ہوا دل پہ اور اثر انداز تول کر بولنے سے آتا ہے بات کہنے کا مختصر انداز ہم کریں ناز خوش نصیبی پر وہ دکھائیں ہمیں اگر انداز شوق سے مشقِ ناز کر ہم پر سینہ حاضر ہے، اے قدر انداز سال ہا سال کی رفاقت ہے ہم سمجھتے ہیں اُن کا ہر انداز ہم نے سیکھی ہے شعر گوئی شعور نازنینوں کے دیکھ کر انداز
Read Moreابو طالب انیم
وہ میری مٹھی میں وقت دے کر مکر نہ جائے میں ڈر رہا ہوں کہیں یہ لمحہ گذر نہ جائے یہ کھیل سارا تو ہے کنارے کی آرزو کا خیال رکھنا یہ کارواں پار اُتر نہ جائے میں اپنے ہاتھوں سے کتنے جنگل اُگا چکا ہوں پر آج تک دل سے پیڑ چھونے کا ڈر نہ جائے اجل! خبر اس کی رکھ کہیں زندگی کے ہاتھوں شکار تیرا زمیں پہ بے موت مر نہ جائے وہ تیرگی ہے کہ پر پرندوں کے بجھ گئے ہیں مجھے یہ دھڑکا لگا…
Read Moreلیاقت علی عاصم
نہ وہ بُلائیں نہ ہم جائیں یوں بھی ہوتا ہے کبھی انا کے مقابل جنوں بھی ہوتا ہے کبھی کبھی کوئی ہوتا نہیں تصور میں کبھی کبھی دم ِ وحشت سکوں بھی ہوتا ہے جب آنکھ کھولیے تب دیکھیے وہی عالم شب ِ فراق میں ایسا فسوں بھی ہوتا ہے اب ایسے شخص سے کیا بات، کیا سوال کروں فقط نہیں ہی نہیں لب پہ کیوں بھی ہوتا ہے سنو، اے خواہشو! خوابو! ذرا خیال رہے یہ شہر ِ دل ہے یہاں کشت و خوں بھی ہوتا ہے
Read More