پتھر ۔۔۔۔۔۔ احمد ندیم قاسمی

ریت سے بت نہ بنا، اے میرے اچھے فنکار!  اک لمحہ کو ٹھہر، میں تجھے پتھر لادوں  میں ترے سامنے انبار لگادوں، لیکن  کون سے رنگ کا پتھر ترے کام آئے گا  سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا  یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر  جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے  کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی  جس پر حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے  اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیبِ سفید  اس کے مرمر میں سیہ…

Read More