آج بھی تیشۂ فرہاد ہے سرگرمِ عمل
آج بھی سنگ کے سینے سے لہو جاری ہے
Related posts
-
راحت اندوری
دن ڈھل گیا تو رات گزرنے کی آس میں سورج ندی میں ڈوب گیا، ہم گلاس... -
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
