ماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے

راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے

دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے
لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے

اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش
باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے

دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی
رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے

اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے
آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے

Related posts

Leave a Comment