دل بھی چاہے تو نظر کیسے لڑے
ہو گئے ہیں آپ کے بچے بڑے
چوم کر آنکھوں سے وہ دل نے چنے
پھول ان ہونٹوں سے جتنے بھی جھڑے
اور کتنی عمر روندے جائیں گے
ہم گیاہِ راہ کی صورت پڑے
سچ کے سیلِ تند کے آگے کبھی
جھوٹ کے پُل رہ نہیں سکتے کھڑے
بات بھی محسوس ہوتی ہے کبھی
جیسے سینے میں کوئی نیزہ گڑے
اس نے بھی دیکھا بہت ہے سرد گرم
امتحاں ہم نے بھی کاٹے ہیں کڑے
تیرگی کے روبرو بن کر چراغ
تا کجا راحت رہو گے تم اڑے
