کچھ خاص خواہشات سے صرفِ نظر کیا
خود سے گریز بنتا نہیں تھا، مگر کیا
خود داریوں کی اوٹ میں کیا جانے کس طرح
ہم نے بھی ایک ساتھ بہت دن سفر کیا
سورج نے یہ جو ہم سے رعایت کبھی نہ کی
صحرا نے کون روز یہاں درگذر کیا
کیا کہیے کون لوگ تھے منظر کی اوٹ میں
دیوانہ وار ہم نے سفر در سفر کیا
آہٹ سی کوئی دھیان میں گونجی تھی ایک روز
دل نے کسی گماں میں ہمیں در بہ در کیا
اہلِ زمانہ اور طرف اور میں اور سمت
اِک طرفہ ماجرے نے مجھے بے خبر کیا
کچھ کچھ معاملات تو کھلتے چلے گئے
ٹھہرے ہوئے پلوں میں جو ہم نے سفر کیا
کہتے ہیں کچھ توخیر سے کرتے ہیں اور کچھ
راہیں بھی حیرتی ہیں کسے راہ بر کیا
لوگوں کی داستان سرائی پہ کیا کہوں
اک معرکہ وجود کا میں نے بھی سر کیا
آئینہ وار رات اُسے جا چھوا نوید
رسوا اِسی خطا نے ہمیں سر بہ سر کیا
