فیض رسول فیضان ۔۔۔۔ نقشِ وفا نکھارنے والا ، نہ تُو نہ میں

نقشِ وفا نکھارنے والا ، نہ تُو نہ میں
اپنی انا کو مارنے والا ، نہ تُو نہ میں

دونوں بلا کے چرب زباں ہیں ، یقین کر
زُلف ِ عمل سنوارنے والا ، نہ تُو نہ میں

اوڑھے ہوئے لبادۂ صدق و صفا ، مگر
حق ہُو ، بہ دل پُکارنے والا ، نہ تُو نہ میں

جس کو ترس رہی ہے اداکاریٔ خرد
سچّا وہ رُوپ دھارنے والا ، نہ تُو نہ میں

کٹتی ہے جس جگہ پہ زباں ، لب کشائی پر
شیخی وہاں بگھارنے والا ، نہ تُو نہ میں

خوابوں سے ہمکنار ہو تعبیر کس طرح
بازی جنوں کی ہارنے والا ، نہ تُو نہ میں

جس کو اجل بھی دیکھتی ہے چشم ِ رشک سے
وہ زندگی گزارنے والا ، نہ تُو نہ میں
آرائشِ حیات کی منزل بعید ہے
دل جھونپڑی اُسارنے والا ، نہ تُو نہ میں

شعر و سُخن میں آ نہیں سکتا اثر کبھی
ملّت پہ جان وارنے والا ، نہ تُو نہ میں

فوکس تو ہے نمود و نمائش پہ جانِ من
اخلاص پر اُبھارنے والا ، نہ تُو نہ میں

فیضانؔ ، آسمان بھی ہٹ جائے راہ سے
ایسی اُڈاری مارنے والا ، نہ تُو نہ میں

Related posts

Leave a Comment