ہوائے سرد چلی ساتھ ہو لیا میں بھی مثالِ برگِ خزاں دیر تک اُڑا میں بھی کسی طرح سے تو ٹوٹے یہ تیرگی کا فسوں چراغ شب کو جلاتے ہوئے جلا میں بھی جدھر نگاہ پڑی ایک ہُو کا عالم تھا نجانے کونسے سگنل پہ رک گیا میں بھی سمے کی دھوپ نے جھلسا دیا مجھے ورنہ دکھائی دیتا تھا تجھ سا ہرا بھرا میں بھی بتا رہے ہو مجھے کون سی قیامت کا ہزار بار تو کرتا ہوں سامنا میں بھی گنوا کے زیست کی پونجی مجھے خیال آیا…
Read MoreTag: ارشد محمود ارشد
ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں
دھک دھک دھک دھک تھی آواز دل نے تجھ کو دی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے تیری کوئل سی آواز ہونٹوں کی چُپ ٹوٹ گئی آنکھوں نے جب دی آواز تبدیلی اب آنے دو ہے یہ خلقت کی آواز پہلے بھی تو گونجی تھی بالکل ایسی ہی آواز مجھ کو میرا وہم لگا اس نے بھی سن لی آواز اک دن گُم ہو جائے گی ارشد تیری بھی آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچا پھل تھا اونچی شاخ کیسے ہاتھ میں آتی شاخ آخر ایندھن بنتی ہے بوڑھے پیڑ کی سوکھی شاخ…
Read More