خواجہ عزیز الحسن مجذوب ۔۔۔ عبث کہتا ہے چارہ گر ،یہاں تک تھا، یہاں تک ہے

عبث کہتا ہے چارہ گر ،یہاں تک تھا، یہاں تک ہے وہ کیا جانے کہ زخمِ دل کہاں تک تھا، کہاں تک ہے مرا خاموش ہو جانا دلیلِ مرگ ہے گویا مثالِ نَے مرا جینا فغاں تک تھا، فغاں تک ہے نہ دھوکہ دے مجھے ہمدم وہ آیا ہے نہ آئے گا پیامِ وعدۂ وصلت زباں تک تھا، زہاں تک ہے کٹی روتے ہی اب تک عمر آگے دیکھیے کیا ہو بتاؤں کیا کہ دل میں غم کہاں تک تھا، کہاں تک ہے وہاں تک قیس کب پہنچا، وہاں فرہاد…

Read More